کاروار:13؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز)گذشتہ کئی دنوں کی خاموشی کےبعد ضلع کی بہت ہی ایماندار اور نظم وضبط کی پابند ایس پی ڈاکٹر سمن پنیکر کےتبادلے کی کوششوں میں اب بی جےپی ارکان اسمبلی کے ساتھ کانگریس کے سابق ارکان اسمبلی بھی شامل ہونے کی ذرائع نے خبر دی ہے۔
ایس پی تبادلے میں شامل کانگریس رکن اسمبلی کے متعلق کہا جارہاہے کہ وہ ساحلی پٹی سے تعلق رکھتےہیں اور وزیر برائے مزدور شیورام ہیبار کے دوست بتائےجارہےہیں اب آپ قیاس آرائی کرسکتےہیں کہ وہ کون ہوسکتےہیں؟۔ ضلع نگراں کار وزیر کوٹاشری نواس پجاری، ضلع ایس پی کی انتظامیہ اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی لئے بی جےپی ارکان اسمبلی کے دباؤ کی وجہ سے ایس پی کا تبادلہ ان کے لئے بیزارگی کا سبب بناہواہے ، اس کا حل انہوں نےکچھ اس طرح سوچ رکھا ہے کہ اس ایماندار افسر کو اپنے ضلع اُڈپی میں تبادلہ کرتےہوئے اُڈپی کے ایس پی کا یہاں تقرر کیا جائے۔ اگر وہ ایک قابل افسر ہیں تو صرف آپ کے ضلع کے لئے کیوں ؟ ہمارے ضلع کےلئے بھی ان کی خدمات کی ضرورت ہونے کا جواب دیتےہوئے ہوا میں غبارہ پھونک دیا ہے۔
اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع کا مسئلہ یہ ہےکہ یہاں فرقہ وارانہ فسادات کے سوا بقیہ جرائم کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ وہاں کے ارکان اسمبلی اور وزراء رشوت خور نہیں ہیں، کو ٹاشری نواس تو پکے پجاری ہیں، ان کے ہاں رشوت نام کو بھی نہیں ہے، ڈاکٹر سمن پنیکر کو ڈسٹرب کرنا وزیرموصوف کی آتما کے خلاف ہے ، انہیں اپنے ضلع میں لینے کا فیصلہ ، ان کے سنجیدہ اور شفاف ہونےکی دلیل ہے۔
آخر اس کانگریس کے سابق رکن اسمبلی کو ایس پی سے اتنا بیر کیوں ہے؟ ، یہ ان کا ذاتی سوال ہوسکتاہے۔ لیکن ایس پی ڈاکٹر سمن پنیکر اپنے دفتر کے عملے کو سزا دینے سےزیادہ تبدیلی کےلئے کئی تجربے کرتی رہی ہیں، چند چنچل ذہنیت،متلون مزاج والوں کو اپنے راست رابطہ میں آنے والے شعبہ جات میں نامزد کیا ہے انہیں زیادہ کام میں مصروف رکھتی ہیں، اب وہاں کام کرنے والے ایک عملہ کو یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوپارہاہے اور یہ عملہ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی کا رشتہ دار بتایا جارہاہے۔ ایس پی کے تبادلے کا معاملہ ثابت کرتاہے کہ ہمارےضلع کو ایک اچھے عوامی آفسرکی خدمات راس نہیں آرہی ہیں اورایک منفی کام میں سیاست دان آپس میں کیسے ایک دوسرے کے مددگار ہوتےہیں ۔